Batlaiye ye kaisi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Ali Zia Rizvi
بتلائیے یہ کیسی اسیری ہے پھوپھی جاں
کیا میرے مقدر میں تھا یہ شام کا زنداں
یاں خاک اڑاتی ہے جہاں شام سے وحشت
ہر صبح ٹپکتی ہے جہاں بام سے وحشت
ہوگا اسی زنداں میں میرے دفن کا ساماں
---بتلائیے یہ کیسی
یہ رات یہ تنہائی یہ خاموشی یہ غربت
اماں اسی گوشے میں بنانا میری تربت
کیا میری طرح سے میری ہو قبر بھی ویراں
---بتلائیے یہ کیسی
اماں ہوکہاں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا
ہاتھوں کو میرے ہاتھ سجھائی نہیں دیتا
ایسا ہے اندھیرا کر خطا ہوتے ہیں اوسان
---بتلائیے یہ کیسی
وہ شام طمانچوں بھری رخصت ہوئی اماں
دامن جلے گوہر چھنے مدت ہوئی اماں
ہے آج تلک درد سے دکھتے ہیں میرے کان
---بتلائیے یہ کیسی
سوچا تھا کہ زنداں سے رہا جب بھی میں ہوں گی
جاوں گی مدینے کو میں صغرا سے ملوں گی
لگتا ہے مگر یاں سے رہائی نہیں آسان
---بتلائیے یہ کیسی
پر شور نوید اتنا ہے جتنا ہے یہ سنسان
اک تیر کے ہوتے ہوئے یہ شام کا زندان
آباد کہاں بعد ہے ویران کا ویراں
---بتلائیے یہ کیسی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.