Baap ke sogh may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
باپ کے سوگ میں چالیس برس روے ہیں
آج سجاد ہمیشہ کے لئے سوے ہیں
کبھی کوشش بھی اگر کرتے تھے سو جانے کی
کوئی تصویر ابھر آتی تھی تڑپانے کی
گونجنے لگتی تھی کانوں میں سکینہ کی فغاں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
سامنے جب بھی وضو کے لئے آیا پانی
روکے کہتے تھے کہ بابا نے نہ پایا پانی
دل سلگ جاتا تھا اور سانسوں سے اٹھتا تھا دھواں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
شام و کوفہ کی وہ تصویر بھلای نہ گیء
عمر بھر پاؤں کی زنجیر بھلائی نہ گیء
مرتے دم تک نہ گےء پشت سے دروں کے نشاں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
پھوٹ کر روتے رہے پاؤں کے چھالے ہر دم
راہ پرخار پہ بڑھتے ہی رہے ہاے قدم
اک پل کو بھی میسر ہوا آرام کہاں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
ہر گھڑی ہونٹوں پہ نوحہ یہ رہا ہاے حسین
آخری سانس بھی آی تو کہا ہاے حسین
یاد میں بابا کی دنیا سے گےء تشنہ دہاں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
کھل گیا طوق مگر درد کی شدت نہ گیء
بیڑیاں کھل کے بھی زخموں کی اذیت نہ گیء
پای احساس میں جکڑی رہی زنجیر گراں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
گھر سے جب عابد مضطر کا جنازہ نکلا
سوگواروں کی زبانوں سے یہ نوحہ نکلا
عامر و فقری مدینے میں تھی یہ آہ و فغاں
باپ کے سوگ میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.