Agar shabbir ka matam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Faazil Lakhnavi
اگر شبیر کا ماتم نہ ہوتا
تو پھر اسلام مستحکم نہ ہوتا
سر مقتل تڑپتی کیوں جوانی
اگر برچی میں الجھا دم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
اگر ڈھارس نہ بنتا صبر شبیر
لہو بے شیر کا تھا کم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ ہوتی گر بہتر کی شہادت
خوشی دنیا میں ہوتی غم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ ہوتے گر حسین اسلام حق پر
تمہارا آج تک ماتم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ گر عباس ہوتے جزبے نصرت
بلند اتنا تیرا پرچم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ چھٹ جاتا اگر گودی کا پالا
تو پھر بانو کے دل میں غم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
اگر حق پر نہ ہوتے مرنے والے
عزاداری کا یہ عالم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ چھنتی گر سر زینب سے چادر
زمیں سے آسماں تک غم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
بہن گر قید خانے میں نہ جاتی
تو بھای فاتحے عاظم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ ملتی کربلا کو گر بلندی
تو پھر کعبہ کسی سے کم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
اگر شبیر کے آنسوں نہ ہوتے
تو درد قلب اکبر کم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
نہ ملتی فضل گر شہ کی تجلی
تو موتی آنسوؤں سے کم نہ ہوتا
اگر شبیر کا ماتم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.