Ana ibne makkah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Nadeem Sarwar
جس کا ممبر تھا وہی بر سر ممبر آیا
وہ اکیلا تھا مگر صورت سے لشکر آیا
لب کشا صورت قرآن وہ حیدر آیا
جب وہ خاموش زباں بر سر دربار چلی
کربلا میں نہ چلی تھی جو وہ تلوار چلی
انا ابنِ مکہ و مینا انا ابنِ زم زم و صفا
انا ابنِ علی و فاطمہ
لہجہء و نور میں مولا نے کہا بسم اللّٰہ
لایق حمد و ثنا ہے تو وہی ایک خدا
جس نے ہم آل محمد کو ہے تخلیق کیا
جس کو معلوم ہے معلوم ہے میرا شجرہ
جو نہیں جانتا وہ سن لے تعرف میرا
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
ہم کو اللہ نے چھ خوبیاں بخشی با خدا
علم اور ہلم دیا اور دل مومن میں رکھا
ہے سماعت و فساہت و شجاعت ورثہ
کم نہ تھی خوبیاں چھ جو کہ یہ عزت کے لےء
صفتیں ساتھ ملی اور فضیلت کے لئے
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
ہم میں اول جو تھے وہ احمد مختار ہوے
کوئی حمزہ تو کوئی جعفر طیار ہوے
ہم ہی حیدر ہوے عباسِ علمدار ہوے
ہم کو معراج رسالت بھی امامت بھی ملی
ہم کو محراب عبادت میں شہادت بھی ملی
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
اس کا فرزند ہوں سہ روز رہا جو پیاسا
درمیاں زین و زمیں جس کا رہا تھا لاشہ
جس کے سجدے کے سبب خاک بنی خاک شفا
خاک اور خون میں ڈوبا تھا عمامہ جس کا
سمے اسپہ تلے روندھا گیا لاشہ جس کا
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
اہلِ انصاف اب انصاف سے اتنا کہہ دے
جس کی چوکھٹ پہ سلامی کو فرشتے اترے
نوکِ نیزہ سے لعیں انکی رداییں لوٹے
تم نے خیمے نہیں اللّٰہ کا گھر خاک کیا
کلمہ پڑھ پڑھ کے محمد کا جگر چاک کیا
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
جس کے پردے کے لئے آیت تطہیر آے
سنگ برساتے ہوے ان پہ یہاں تک لاے
حیف ہے روح محمد سے نہ تم شرماے
ہم نے پابند رسن ہو کے تجھے مارا ہے
ابنِ مرجانا تو جیتا تو نہیں ہارا ہے
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
بات جب کھل گیء سادات محمد ہے یہاں
رو دیےء اہلِ جفا ابھرا بغاوت کا سماں
اور اسی شور میں حاکم نے دیا حکم اذاں
سات افراد جو ایک مشت اذاں دینے لگے
حق میں سجاد کے درباری بیاں دینے لگے
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
جب مؤذن نے کیا کلمہء تکبیر ادا
بولے سجاد بزرگی ہے اسی کو ذبح
جیسے ہی نام محمد کا مؤذن نےلیا
مڑ کے حاکم سے کہا تیرے ارادے بد ہیں
یہ محمد ہے تمہارے کہ ہمارے جد ہیں
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
عیب کیوں اپنے چھپاتا ہے اذانیں دے کر
تھے اگر تیرے محمد تو ستم کیوں ہم پر
ڈال اس طوق پہ زنجیر پہ اک بار نظر
زخم جو تو نے دیےء سب دل بیمار میں ہے
بیٹیاں ہیں یہ محمد کی جو دربار میں ہے
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
تو تو کہتا ہے کہ ہے ڈھونگ نعوذباللہ
نہ پیمبر نہ وہی آی نہ قرآں اترا
پھر اذانیں بھی تو دربار میں ہے دلواتا
لے منافق تیرے چہرے سے اترتی ہے نقاب
جس کا منکر ہے وہ قرآن تیرا لے گا حساب
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
اس شخاوت پہ بھی ہم ہارے نہیں جیت گےء
نام اذانوں میں تمہارے نہیں ہم جیت گےء
کیا یہ قدرت کے اشارے نہیں ہم جیت گےء
یک بہ یک فتح مبیں سب کو نظر آنے لگی
مرحبا سید سجاد صدا چھانے لگی
انا ابنِ مکہ و مینا۔۔۔
بولے پھر عابد بیمار یہ عزت دیکھی
دیکھی یہ تخت ستمگار یہ عزت دیکھی
پھر گیا تجھ سے یہ دربار یہ عزت دیکھی
جس کا حامی ہو خدا کون اسے ذلت دے
عزتیں اس کی ہے اللّٰہ جسے عزت دے
ہاے حسینا واے حسینا
اترے ممبر سے تو بابا کے کٹے سر نے کہا
مرحبا اے میرے سجاد غریب زہرا
معجزہ سرور و ریحان فلک نے دیکھا
خطبۂ زینب و سجاد نے وہ کام کیا
حشر تک ذکرِ حسین ابنِ علی عام کیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.