Abid ko jahan ghash
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Hasan Mir
عابد کو جہاں غش آتا ہے
دروں سے جگایا جاتا ہے
اک پھول ہے جس کو کانٹوں پر
دن رات چلایا جاتا ہے
عباس کی غیرت سے اکثر
عابد کی اسیری پوچھتی ہے
کیا چار برس کی بہنا کو
زنداں میں سلایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
سادات کے خیمے جلتے ہیں
شعلوں میں گھری ہے آل نبی
پھر آج نبی کی بیٹی پر
دروازہ گرایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
رہ رہ کے شہ دیں دیکھتے ہیں
نیزے سے سکینہ کی جانب
لگتا ہے کہ پشت ناقہ سے
بچی کو گرایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
بی بی کو قریب لاش جری
دروں کی اذیت دیتے ہیں
عباس کو تڑپانے کے لئے
زینب کو ستایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
غیرت کے سبب جس بی بی نے
گھر میں بھی نہ دیکھا آیینہ
بے پردہ اسے لانے کے لئے
دربار سجایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
بن بیاہ کہ اکبر مارے گئے
ارمان نہ نکلا بانو کا
تابوت پہ اکبر کے سہرا
کچھ یوں بھی چڑھایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
وہ نوک سناں پر غیرت سے
رکتا ہی نہیں گر جاتا ہے
جب جب بھی سر عباس جری
نیزے پہ چڑھایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
پردے میں بلال کرب وبلا
روئے نہ میرا مولا کیونکر
افسوس کہ تربت میں اب تک
زہرا کو رلایا جاتا ہے
عابد کو جہاں غش۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.