Abid ki kahani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Shahid Baltistani
ہاے بیمار ہاے بیمار
رنج و الم میں ڈوبی عابد کی کہانی
پیروں میں آبلے ہے آنکھوں سے آنسوؤں کی
ہوتی ہے روانی
رنج و الم میں ڈوبی عابد کی کہانی
اس بات کا نہیں غم بازار بے حیا ہے
امت کی بے رخی ہے امت سے ہی گلہ ہے
زینب بھی بے ردا ہے بدلی ہے ضعیفی میں
عابد کی جوانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
قاری نمازی حافط حاجی کھڑے ہوے تھے
بازاروں میں مسلمان سارے بھرے ہوے تھے
زینب کی پشت پر ہی بیمار سارباں کی
گزری ہے جوانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
سادات کے لئے ہی راہوں میں مشکلیں ہے
کوڑے ہے اور کانٹے پتھروں کی بارشیں ہے
خیمے جو کربلا میں جلتے رہے تھے یا رب
برسا نہیں پانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
جب کربلا کو آے چھوٹا وطن مدینہ
چھوڑا جو کربلا کو تنہا ہوی سکینہ
سرور کی شاہزادی کیسے سہے گی یا رب
زنداں کی ویرانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
سجاد کو امامت دیتی ہے شام غربت
مظلوم سیدوں سے کہتی ہے شام غربت
پرسے میں دے رہی ہوں بیمار کو اسیری
کربل کو کہانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
نا محرموں میں زینب بے پردہ جب کھڑی تھی
امت کی تیری نانا غیرت کہاں گیء تھی
مجمع لگا ہوا تھا زینب جو پڑھ رہی تھی
آیات قرآنی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
سایہ ہٹا ہی تھا کہ عباس کے بھرم کا
آغاز ہو گیا تھا سادات پہ ستم کا
دیتی رہی دلاسا پردیس میں زینب کو
غازی کی نشانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
سجاد جس طرح سے آنکھوں سے خون رویا
ارمان وہ قلم سے کیسے بیان ہو گا
بیدار ہو گےء ہم ماتم بتا رہا ہے
نوحوں کی زبانی
رنج و الم میں ڈوبی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.