Zehra pursa lo bahattar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Jahan
کربل کی کہانی جب کوئی بھی سناے گا
دل والوں کی آنکھوں سے اک دریا بہاے گا
وہ قافلہ سرور کا کس شان سے نکلا تھا
صغرا کو خبر کیا تھی نہ لوٹ کے آے گا
زہرا زہرا پرسہ لو بہتر کا
ٹوٹی ہے کمر شہ کی گھبرانا مگر اکبر
فرزند نبی تیری میت کو اٹھاے گا
زہرا زہرا اکبر بھی پرسہ لو
تھا ہاتھوں کے کٹنے کا کچھ غم نہ دلاور کو
سیدانیوں کا پردہ اب کون بچائے گا
زہرا زہرا عباس کا پرسہ لو
پامال ہوا قاسم جب گھوڑوں کی ٹاپوں سے
کس طرح چچا تیری میت کو اٹھاے گا
زہرا زہرا قاسم کا بھی پرسہ لو
سوتے ہی نہ تھے اصغر جھولے میں تڑپتے تھے
مادر کو خبر کیا تھی اک تیر سلاے گا
زہرا زہرا اصغر کا بھی پرسہ لو
سرور نے اٹھاے ہیں سب ساتھیوں کے لاشے
شبیر تیرا لاشہ اب کون اٹھاے گا
زہرا زہرا شبیر کا پرسہ لو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.