Wehab e kalbi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on As'hab e Hussain recited by Raza Abbas Zaidi
دن تھا عاشور کا شبیر پہ تنہائی تھی
ہر طرف گریہ و ماتم کی گھٹا چھائی تھی
اک بارات کسی دولہا کی وہاں سے گزری
نام نوشاہ کا محضر میں تھا وحبِ قلبی
رُک گیا دشت میں اک سانحہ ایسا دیکھا
ہاتھ سے کنگنا گرا سر سے زمین پر سہرا
وھبِ قلبی نے کہا کس کے ہیں فرزند جناب
بولے شبیر ہیں خاتونِ جناں ماں کا خطاب
باپ میرا ہے علی نانا نبیِ دوسرا
وحبِ قلبی کا یہ سُنتے ہی بدن کانپ گیا
روکے شبیر سے کہتا تھا یہ وحبِ قلبی
زندگی آپ پہ صدقے میرے فرزندِ نبی
شہہ نے فرمایا عروسی کا ہے جوڑا تن پر
اک دولہا کے تو میں رو چُکا ٹکڑے چُن کر
میرا فرزند جواں ہائے وہ میرا اکبر
اُسکی شادی کا تھا ارمان وہ میرا نورِ نظر
کھا کے پھل برچھی کارونے کو مجھے چھوڑ گیا
اپنے ملبوسِ عروسی کو کفن تُو نہ بنا
وحبِ قلبی نے کہا مجھ کو ہے حکمِ مادر
جا میرے لال تُو مدینے میں دولہا بن کر
تیرا شہہ بالا ہے فرزندِ ربابِ مضطر
سہرا اکبر پہ تُو عباس پہ تُو وار دے سر
تیری دولہن کوئی کبریٰ کے برابر تو نہیں
اُسکا آنچل سرِ کلثوم کی چادر تو نہیں
بولے شہہ تُو میرا مہمان ہے وحبِ قلبی
لے برات کو تُو اپنی نکل جا جلدی
اُٹھنے والی ہے ابھی دشتِ بلا میں آندھی
میرا اللہ مبارک کرے تجھ کو شادی
میں تیری لاش پہ روئوں مجھے منظور نہیں
آلِ عمران ہوں میں یہ میرا دستور نہیں
وحب کہنے لگا عمران کے ایمان کی قسم
اب میرے راہِ شہادت سے نہ پلٹیں گے قدم
آپ کو چھوڑ کے اس دشت میں یا شاہِ اُمم
لوٹ جائوں تو خفا ہو نگے رسولِ اکرم
پڑھ لیا کلمئہ توحید مسلماں ہوں میں
آپ کی غربت و مظلومی پہ قرباں ہوں میں
جذبئہ شوقِ شہادت پہ حسین ابنِ علی
بولے آ سینے سے لگ جا میرے وحبِ قلبی
منتظر ہے درِ جنت پہ تیرے حق کے نبی
تیرے باراتی بھی ہیں مقدر کا دہانی
میری نصرت میں اگر سر تیرا کٹ جائے گا
مجھ سے پہلے بھی تُو جنت میں چلا جائے گا
وحبِ قلبی نے کہا خلد نہیں ہے درکار
خلد تو آپ کے قدموں میں پڑی ہے سرکار
آپ راضی ہیں تو جنت کی طلب ہے بے کار
دیجیئے مرنے کی اجازت کے یہ سر تن پہ ہے بار
خلد تو آپ کے مقتل کو بنا دے گا خدا
وحبِ قلبی کا وطن آج سے ہے کرب و بلا
مل گیا عزنِ وغا رن میں قیامت آئی
جائوں اور حر کی طرح اُس نے شہادت پائی
شہہ پُکارے میرا مارا گیا ایک اور بھائی
گھر میں زینب نے اُدھر فرشِ عزا بچھوائی
شدتِ غم سے چچا کہکے سکینہ روئی
بولا شہزادی نہ رونا لاشئہ وحبِ قلبی
اے رضا نارسے نوری ہوا وحبِ قلبی
معسیعت ڈھل گئی جب روئی علی کی بیٹی
زوجہِ وحب سے زینب نے کہا اے بی بی
عمر بھر وحب کی لازم ہوئی پُرسہ داری
ہائے ریحان بیاں کیسے کروں وہ منظر
زوجہِ وحب کو زینب نے اُڑھائی چادر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.