Zehra ka ye nauha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
واویلا ہائے واویلا
زہرا کا یہ نوحہ تھا
میرا کنبہ اجڑ گیا
واویلا ہائے واویلا
رخ کر کے مدینے کا بانو
صغرا کو بلاتی ہے
اکبر کے لہو سے بالوں میں
ماں مہندی لگاتی ہے
کہرام تھا خیمے میں
لیلیٰ کا یہ نوحہ تھا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
خود کانپتے ہاتھوں سے شہ نے
بیٹے کی لحد کھودی
شبیر کی غربت پہ اس دم
روتی تھی خدائی بھی
جب خوں بھرے کرتے میں
اصغر کو دفن کیا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
جو شب کو بنی قاسم کی دلہن
وہ صبح کو بیوہ ہوئی
ہاتھوں میں رسن کنگنے کی جگہ
کبرا کے باندھی گئی
فروہ نے کہا رو کر
پامال ہوا دولہا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
بیمار مسافر کے دل پر
اک تازہ قیامت تھی
بازار کے رستے میں جس دم
ناقے سے سکینہ گری
سیدانیاں روتی تھی
کہرام تھا اک برپا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
پہرے پہ علی کی بیٹی ہے
ہر سمت اندھیرا ہے
اٹھارہ برادر تھے جس کے
وہ دشت میں تنہا ہے
اور اس پہ ستم یہ ہے
باقی نہ رہا پردہ
واویلا ہاثے واویلا۔۔۔
اس خوں بھرے منظر کو مادر
بھولے گی بھلا کیسے
بیٹے کو ذبح ہوتے دیکھا
خود اپنی نگاہوں سے
خنجر نہ چلا ظالم
کہتی ہی رہی زہرا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
اے میر تکلم یثرب میں
محشر کا سماں ہوگا
جب حال سفر کا زینب نے
صغرا سے کہا ہو گا
سر پیٹ کے دکھیا نے
یہ نوحہ پڑھا ہو گا
واویلا ہائے واویلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.