Zainab tadap ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ghadeer Fatima
زینب تڑپ کے روتی تھی آی جو یہ خبر
عباس قتل ہو گےء نہر فرات پر
سرور کو اپنے غم میں رلا کر چلے گےء
اہلِ حرم کو دشت میں بے آس چھوڑ کر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
لیلیٰ کی حسرتوں کو بھی پامال کر دیا
برچی کا پھل وہ سینۂ اکبر کو چهيد کر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
چہرے کا رنگ زینب مضطر کو اڑ گیا
آی نہ رن سے بیٹوں کی جس دم کوی خبر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
سورج ہوا غروب قیامت گزر گئی
لٹنے لگا حسین کا اسباب مال و زر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
بے چین ہو کے ہاتھوں میں کوزہ لیےء
اصغر کو ڈھونڈتی تھی سکینہ ادھر ادھر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
بیٹھی ہے حول ناک اندھیروں کے درمیاں
مقتل کی سر زمین پہ زینب جھکائے سر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
خیموں کی آگ جسم کو جھلسہ رہی تھی
اعدا کی ظلم روح کو کرتے تھے نوحہ گر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
ہاتھوں میں رسیاں تھی تو پیروں میں بیڑیاں
ظلم و ستم کے بعد بھی جاری رہا سفر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
یہ عمر اور بچوں کا اونٹوں پہ بیٹھنا
ماؤں کا دل تڑپ گیا منظر یہ دیکھ کر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
اڑھتے ہوے پرندوں کو دیکھا تو رو پڑی
شاید سکینہ بی بی کو یاد آ گیا ہے گھر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
حوروں میں شور تھا تو ملایک تھے غمزدہ
سیدانیاں کو شام کے بلوے میں دیکھ کر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
دربار میں یزید کے زینب ہے بے ردا
اب تو مدد کو آیےء یا سید البشر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
مٹی جو قید خانے کی راس آگیء اسے
اہلِ حرم میں گریہ و ماتم تھا رات بھر
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
کربوبلا پہ اشک رضا جو بہاینگے
ہے بس انہیں کے واسطے جنت کے بام و در
زینب تڑپ کے روتی تھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.