Ye karbala hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کربلا آواز میری دل میرا ہے کربلا
کربلا کربلا کربلا
یہاں سنبھل کر قدم اٹھانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہ بات ہر گز نہ بھول جانا
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
جہاں میں صبر و رضا یہی ہے
خدائے صبر و رضا یہی ہے
یہاں پہ آتے ہیں چل کے مہدی
بہشت زہرا یہ سر زمیں ہے
یہاں ہے زہرا کا آنا جانا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
دعائیں دیں گے حسین تم کو
یہاں پہ آنسو اگر بہائے
جہاں پہ بیٹی نے بے وطن کی
ستمگروں کے طمانچے کھائے
یہاں پہ خوشیوں کو بھول جانا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
یہاں پہ گزری ہے وہ قیامت
ملا نہ اسکو سکون اب تک
ردائیں چھننے کے غم میں عابد
لحد میں روتا ہے خون اب تک
یہاں پہ ہر گز نہ مسکرانا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
یہاں پہ حر بھی تھا حرملہ بھی
کتاب ہستی تو پڑھکے دیکھو
صدائے ھل من جو آرہی ہے
تم اس طرف ہو یا اس طرف ہو
تمہیں عمل سے ہے اب بتانا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
یہیں پہ قاسم ہوئے ہیں ٹکڑے
یہیں پہ زیں سے گرے تھے مولا
یہیں سکینہ سموں سے لپٹی
یہیں پہ اصغر نے تیر کھایا
یہیں غریبی کا ہے ٹھکانہ
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
سواری آئےگی اک وہاں سے
نجف کی جانب نگاہ رکھنا
جب آئے شام غریباں اس دم
علی کو زینب کا پرسہ دینا
تم آنسوؤں کے دیئے جلانا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
کسی کے دل میں لگی ہے برچھی
کسی کے بازو کٹے یہیں پر
ہائے علی کی بیٹی کے کتنے یوسف
لہو میں ڈوبے ہیں اس زمیں پر
لٹا ہے سادات کا گھرانہ
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
رہیں کہیں بھی جہاں میں جا کر
حسین والے یہ جانتے ہیں
ہم اہلِ ماتم کے دل تکلم
یہاں کی مٹی سے ہی بنے ہیں
یہاں ہے واپس پلٹ کے آنا
...یہ کربلا ہے
...یہاں سنبھل کر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.