Yasrab ke musafir
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Alamdar Razvi
یثرب کے مسافر سے قریب موت کا بن ہے
ہمراہ قضا سید آوارہ وطن ہے
منزل سے ہے نزدیک محمد کا نواسہ
اب ختم سفر ہو چکا شاہ شہداء کا
رہ رہ کے دہل جاتا ہے زینب کا کلیجہ
منہ دیکھ کے بھائی کا پریشان بہن ہے
یثرب کے مسافر سے۔۔۔
کرتا ہے کوئی راتوں کو جنگل میں یہ نالے
قربان ہو ماں تجھ پہ میرے نازوں کے پالے
بچے تجھے کرتی ہوں میں خالق کے حوالے
ڈر تھا مجھے لٹنے کا جہاں یہ وہی بن ہے
یثرب کے مسافر سے۔۔۔
اس دشت میں پاے گا تو ہر طرح کی ایذا
اس دشت میں دشمن تیری ہو جاے گی دنیا
لای ہے تجھے موت یہاں کھینچ کے بیٹا
شبیر یہ تیرا ہی بس اب تیرا وطن ہے
یثرب کے مسافر سے۔۔۔
پیاسا تجھے جب ذبح کرے یہ ستم آرا
لاشے کا بھی ہوگا نہ کوئی گاڑنے والا
بیٹا تیری مظلومی کے قربان یہ دکھیا
نے غسل قسمت میں تیری اور نہ کفن ہے
یثرب کے مسافر سے۔۔۔
لٹ جاے گا پیاسا تیرا یہ چھوٹا سا لشکر
اک بوندھ بھی پانی کی نہ دیگا کوئی خود سر
چلاے گا بے شیر کو تو ہاتھوں پہ لے کر
لوگوں میرا معصوم بہت تشنہ دہن ہے
یثرب کے مسافر سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.