Wasiyate imam husain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
شب عاشور یہ شبیر نے کہا زینب سے
اے بہن زینب اے بہن زینب
بھای کی لاش پہ مقتل میں جو آنا زینب
ہو سکے تو میری بچی کو نہ لانا زینب
باپ سے بیٹی تو ماں بیٹے سے ہوتی ہے قریب
ماں کو مظلومی سناے گا تمہاری یہ غریب
تم غریبی میری بابا کو سنانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
کل سے باغی کی بہن تم کو کہا جاے گا
تازیانوں سے تمہیں پرسہ دیا جائے گا
بدلے لے گا میرے تم سے یہ زمانہ زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
رات میں اٹھتے ہیں اس در کے جنازے بی بی
سر سے چادر جو چھنی تم بھی تو مر جاؤ گی
تم اندھیرے میں میرے لاشے پہ آنا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
شمر جس وقت چلاے میری گردن پہ چھری
ذبح ہوتے ہوئے بابا کو نہ دیکھے بیٹی
در خیمہ سے سکینہ کو ہٹانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
کہیں عباس نہ سن لے میری باتیں یہ بہن
ہاتھ وہ چوم لوں بندھ جاے گی کل جن میں رسن
زرا کچھ دیر چراغوں کو بجھانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
پورا عباس کی مادر کا ہو ارمان بہن
پانی پیاسوں کو جو پلواو گی تم جا کی وطن
سقہ عباس کے بیٹے کو بنانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
ایک احساس یہ کرنا اے میرے بابا کی جاں
اس برس آے مدینے میں جو گیارہ شعبان
فرش مجلس علی اکبر کا بچھانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
شب عاشور کی مجلس تھی تکلم جاری
چپ ہوے کہہ کے یہ شبیر بہن سے اپنی
تم کو بازار میں بے پردہ ہے جانا زینب
بھای کی لاش پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.