Waada nibha rahe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ نبھا رہے ہیں حسین
خود اپنے قدموں سے مقتل کو جا رھے ھیں حسین
جب اپنے نا نا کی تربت کو الوداع کہا
تو آ رہی تھی بقیعہ سے فاطمہ کی صدا
اُٹھو لحد سے اے بابا وہ جا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
خُدا کی راہ میں صغریٰ کو تنہا چھوڑ دیا
وہ لاکھ کہتی رہی مُجھ کو لے چلو بابا
لپٹ کے بیٹی سے آنسُو بہا رھے ہیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
قیامت آ گئی جب آئی شام عاشورا
صغیر بچّوں میں جب العطش کا شور بڑھا
گلے لگا کے اُنہیں روتے جا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
طلوع ہو گئی کربل میں صبح قتلِ حسین
اُٹھا رہا تھا ہر اِک لاش خود بتول کا چین
خود اپنے ہاتھوں سے مقتل سجا رھے ہیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
شہید جب ہوا غازی حسین ٹوٹ گئے
تو لاشہ چھوڑ کے دریا پہ سوئے خیمہ چلے
علم کے ساتھ دو بازو بھی لا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
پھر ایک ظلم پہ عرش عظیم کانپ گیا
پدر کی گود میں بیشیر کو جو تیر لگا
وہ دیکھو چھوٹی سی تربت بنا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
حرم میں حشر تھا جب وقتِ عصر آ پہنچا
سکینہ ڈھونڈھ رہی تھی کدھر گئے بابا
خدا کے سجدے میں گردن کٹا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
تھا نوحہ ماجد و مختار رن میں زینب کا
پڑا ہے دھوپ میں لاشہ تمہارا اے بھیّا
حرم تمہارے سوئے شام جا رھے ھیں حسین
جو تھا خُدا سے وہ وعدہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.