Uthta nahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Jawad ul Hassan
اُٹھتا نہیں ہے لاشہ شبیرِ ناتواں سے
عباس جلد آئو نہرِ رواں دواں سے
لیلیٰ تڑپ کے بولی اے میرے لال مت جا
رخصت جو تجھ کو کر دے لائوں وہ دل کہاں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
انصاف چاہتی ہے اُجڑی ہوئی جوانی
ہر خم کمر پدر سے ہر اک ضعیف ماں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
دل بے تحاشا کر کے فوجِ یزید روئی
کیا جانے کیا کہا تھا بے شیر نے زباں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
کانپ اُٹھتی روحِ انساں ناوق لگا گلے پر
یوں مسکرا کے اصغر رُخصت ہوئے جہاں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
لاشہ ہے شہہ کا عُریاں مجبور ہے بہن بھی
سر پر ردا نہیں ہے لائے کفن کہاں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
اتنا تو سوچ ظالم بھاری ہے طوق و بیڑی
رہوار اُٹھے گا کیوں کر بیمار و ناتواں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
روتی ہے جب سکینہ بابا کو یاد کر کے
ہلتا ہے قید خانہ معصوم کی فغاں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
بخشش کی اک سند ہے نوحہ تمہارا آغا
مل کر رہے گی جنت ہاں مالکِ جناں سے
اُٹھتا نہیں ہے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.