Utho hussain bahan ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
یہ میں ہوں میں میری تنہائی، یہ تما شائی
لو آئی گیارہ محرم ہے کیا خبر لائی
چلی جانبِ زنداں تمہاری ماں جائی
سوار ہم نے کیاتھا تمہیں میرے بھائی
اب آئو یا مجھے کہہ دو نہ انتظار کرو
اُٹھو حسین بہن کو ذرا سوار کرو
سوار ہم نے کیا تھا تمہیں دمِ رُخصت
لگام تھامی تھی میں نے بحالت رِ کت
کہاں گئی وہ محبت ، کہاں گئی چاہت
عمامہ اپنا میرے سر پہ، سایہ وار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
وطن سے دُور ہوں کچھ اور دُور جاتی ہوں
اُٹھو اُٹھو میرے بھیا،تمہیں جگاتی ہوں
کوئی بھی آتا نہیں میں جسے بُلاتی ہوں
قرار جان میرے مجھ کو نہ بے قرار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
سفر مدینے سے کیسا تھا یہ سفر کیسا ہے
نہ مہملیں ہیں نہ ہودج نہ کوئی پردہ ہے
ہے سر میں خاک یہ کرب و بلا کا صحرا ہے
نہ جی سکوں گی تیرے بعد اعتبار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
درِ فرات پہ اے سونے والے جاگ ذرا
علم کے سائے میں رُخصت بہن کو کر بھیا
سُنا ہے سخت کٹھن ہے یہ شام کا رستہ
سہل یہ راستہ عباس نامدار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
میں آئوں گی میرے بھیا ضرور آئوں گی
کفن اُڑھائوں گی مرقد تیری بنائوں گی
جہاں بھی جائوں گی فرشِ اعزا بچھائوں گی
میں قید کاٹ کے لوٹ آئوں انتظار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
رگوں میں خون بدن میں جو سانس جاری ہے
تمہاری سرور و ریحان ذمہ داری ہے
جہاں جہاں میرے بھائی کی پُرسہ داری ہے
تم اپنے نوحوں سے دُنیا کو سوگوار کرو
اُٹھو حسین بہن ۔۔۔
اب آئو یا مجھے کہہ دونہ انتظار کرو
اُٹھو حسین بہن کو ذرا سوار کرو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.