Pardes hai ghurbat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Farzande Muslim recited by Ali Mohd. Sultanpuri
مسلم کے دلارے
پردیس ہے غر بت ہے مسلم کے دلارے ہیں
ہے دور وطن دونوں تقدیر کے مارے ہیں
بچھڑا ہے پدر جب سے دونوں پہ مصیبت ہے
بھوکے ہیں کئ دن کے اور پیاس کی شدت ہے
جائیں تو کہاں جائیں یہ سوچ کے روتے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
حال اپنا بتانے کو ہمدرد کہاں پائیں
انجان ہیں کوفہ سے جائیں تو کہاں جائیں
چھپ چھپ کے وہ پردیسی دن رات بتاتے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
چھوٹے کو بڑا بھائی گودی میں اٹھاتا ہے
بھائی کا سفر بھائی آسان بناتا ہے
مل جائیگا اب رستہ یہ سوچ کے چلتے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
تقدیر یتیموں کو دن رات ستاتی ہے
اور باپ کی فرقت بھی دونوں کو رلاتی ہے
کوفہ میں بھٹکتے ہیں اور اشک بہاتے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
ہے دونوں کے بال الجھے کپڑے بھی ہوۓ میلے
کوئی بھی نہیں ایسا آکر کے جو یہ پوچھے
یہ سوۓ نہیں کب سے اور کب کے یہ جاگے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
آ کر کے کوئی ان کو سینے سے لگا لیتا
اور راہ مدینے کی دونوں کو بتا دیتا
یہ دونوں مسافر ہیں حیدر کے دُلارے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
اک پل بھی اجل ان کے پیچھے سے نہیں ہٹتی
اور رنج و مصیبت کی بدلی بھی نہیں گھٹتی
دو پھول سے بچے ہیں اور موت کے ساۓ ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
وہ دونوں مسافر تھے پردیس میں بے وارث
جب کر کے گرفتاری لے کر کے چلا حارث
رخ کر کے مدینہ کا اماں کو بلاتے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
حارث نے یتیموں پر واعظ جو ستم ڈھاۓ
وہ ظلم علی کیسے رہ رہ کے نہ یاد آئے
تلوار ہے ظالم کی اور چاند سے بچے ہیں
پردیس ہے غر بت ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.