Teero ke musalle par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Anj. Sabile Masumeen
تیروں کے مُصلے پر وہ سجدئہ شکرانا
شبیر نے بتلایا اسلام پہ مر جانا
اک تیر علی اصغر کی گردن پہ لگا آ کر
معصوم کا ہنس دینا اور موت کا گھبرانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
میت علی اصغر کی ہاتھوں پہ اُٹھا بولی
اللہ تیرے آگے شبیر کا نذرانہ
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
حیدر کی شجاعت کا انداز نظر آیا
وہ شامِ غریباں میں زینب کا نہ گھبرانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
سر کی تھی بِنا چادر سورج بھی نہ نکلا تھا
یہ ثانیئے زہرا ہے اُمت نے نہ پہچانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
تا ھشر رُلائے گا مولا کی تراری پر
دُلدُل کی رقابوں سے بیٹی کا لپٹ جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
کچھ اس طرح لاش آئی اک رات کے بیاہے کی
افسوس کے مادر نے بیٹے کو نہ پہچانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
دربار میں فضّہ نے لوگوں سے کہا رو کر
آتی ہے نبی زادی تعظیم کو جھُک جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
دُنیا تو نہ بھُولے گی عباس وفا تیری
تلوار نہیں کھینچی آقا کا کہا مانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
برچھی علی اکبر کے سینے سے نکالی تھی
دیکھا نہ گیا شاہ سے یون دل کا نکل جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
یہ ماں کی وصیّت تھی عباسِ دلاور کو
جب دین پہ بن آئے تم دین پہ مر جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
سوچو تو مسلمانو یہ بات ہی کیا کم ہے
احمد کی نواسی کا دربار میں آ جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
سیدانیوں کا اُس وقت کیا حال ہوا ہو گا
معصوم کا رو رو کر زندان میں مر جانا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
دُنیا تو نہ بھُولے گی منظر یہ کبھی ناصر
سانچے میں امامت کے قرآن کا ڈھل آنا
تیروں کے مُصلے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.