Tadap ke ye poocha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Zawwar Hussain
تڑپ کے یہ پوچھا سکینہ نے ماں سے
رہائی ملے گی ہمیں کب یہاں سے
رباب حزیں نے جو دیکھا یہ منظر
تو پھر رہ گیا ہے کلیجہ تڑپ کر
چلا تیر جو حرملہ کی کماں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
اسیری کی چادر یتیمی کے ساے
یہ دشمن کو بھی دن خدا نہ دکھائے
رہے پھول کیسے جدا گلستاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
خموشی سے ان کے ستم ہم اٹھاے
مگر کوئی شکوہ نہ ہونٹوں پہ لاے
پڑے تازیانے جو بولے زباں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
سکوں دل کو آخر ہو کیسے میسر
مرا تیر کھا کے میرا بھای اصغر
وہ کلکاریاں اب سنو میں کہاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
مدینے کی یادیں ستاتی ہیں مجھکو
بہت خوں کے آنسوں رلاتی ہے مجھکو
رہے دور کب تک کوئی آشیاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
ترای سے آتی ہوی نم ہوائیں
طلب تشنگی کی بڑھا کر ستاے
کوئی ان سے کہہ دے نہ گزرے یہاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
چلا حلق شہ پر جو مقتل میں خنجر
نشیبوں میں روی بہت ایک مادر
زمیں روی برسا لہو آسماں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
کہ جو باغ یثرب میں پھولے پھلے ہیں
وہی پھول جلتی زمیں پر پڑے ہیں
بچا لے انہیں کوئی ظالم قضا سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
یہ بیمار بھای پہ جور جفا ہے
رسن بازوؤں میں گلا بھی بندھا ہے
لہو اب بھی جاری ہے طوقِ گراں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
درندوں کی بستی یہ کربوبلا ہے
انہیں خون انساں کا منہ کو لگا ہے
نظر جس پر اٹھی گیا اپنی جاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
تصور میں بھی بد خیالی نہ آے
غلام علی زندگی یوں بتاے
بے ایمان بن کر اٹھے اس جہاں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
غمِ شہ سلامت رہے چشمِ نم سے
مگر غم جہاں کا رہے دور ہم سے
رضا کی دعا ہے امام زماں سے
تڑپ کے یہ پوچھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.