Sultane zaman
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Alamdar Razvi
سلطان زمن آگےء وا حسرت و دردا
میدان بلا میں
زینب نے سنا مادر دلگیر کا نوحہ
جنگل کی ہوا میں
سامان اترنے لگا منزل ہوی آخر
آ پہنچے مسافر
آتے ہی گھرا احمد مختار کا کنبہ
اندوہ بلا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
کھلنے لگے ہتھیار شجاعان عرب کے
پا بند ادب کے
عباس علمدار لگانے لگے خیمہ
دریا کی فضا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
ہر ایک نمازی کا ہے خالق کی طرف دل
طاعت پہ ہے مایل
مصروف ہے پیغمبر عالم کا نواسہ
امت کی دعا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
جنگل کی ہواؤں سے مرس میں ہے ترقی
آنکھیں نہیں کھلتی
پکارتا ہے جگر زہر کا ہے ذایقہ سا
عابد کو دوا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
شبیر کے چہرے پہ بہ حالی کے ہیں آثار
ہنس دیتے ہیں ہر بار
فرماتے ہیں اب کاہے کو ہونے لگا عرصہ
وعدے کی وفا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
جھونکے جو کبھی گرم ہواؤں کے ہیں چلتے
بچے ہیں دہلتے
سیدانیوں کا وقت ہر ایک دم ہے گزرتا
فریاد و بکا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
گرمی سے دل اصغر ناداں ہے دھڑکتا
تالو ہے لپکتا
اک حسرت و اندوہ کا انداز ہے پیدا
گھنگرو کی صدا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
کچھ سوچ کے کرتی ہے فغاں زینب ناچار
کہتی ہے یہ ہر بار
یہ کیا ہوا ہم بیکسوں کا قافلہ اترا
کس دشت بلا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
محسن کے جگر بندوں سے سب پھر گےء کفار
ہو لعنت غفار
باقی نہیں مسرور اثر خلق و وفا کا
دنیا کی ہوا میں
سلطان زمن آگےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.