Yade kal khair
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Nadeem Sarwar
ہاۓ اسیر قافلہ دربار شام جب آیا
یزید زینب کبریٰ سے یوں ہوا گویا
لو آج راز و تعزو من تشاء کا کھلا
کہ باوقار ہوا کون کون ہے رسوا
و بد کلام ٹھہر بولی زینب کبریٰ
نشے میں مست ہے آیت یہ پوری سب کو سنا
وہ ہاتھ خیر کا ہے کون مجھ کو یہ تو بتا
کہ جس سے ذلت و توخیر بانٹتا ہے خدا
وہ ہاتھ تُو ہے کہ ہم اہلیبیت ہیں اُس کے
ہم ہی ہیں عزت و ذلت کے بانٹنے والے
یدِک الخیر بھی ہم ربِّ کعبہ کی قسم
اُنہی ہاتھوں میں رسن سر دربار ستم
زینبی لہجے میں آواز علی گونج اٹھی
ظلم اور جبر کے دربار پہ بجلی سی گری
لائق حمد ہے جس نے ہمیں عزت بخشی
سورہ روم سے شہزادی نے آیت یہ پڑھی
جو بُرے تھے سو بُرا ان کا ہی انجام ہوا
جس نے قرآن کو جھٹلایا وہ ناکام ہوا
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
کیا کہا تو نے کہ حق سے ہمیں رسوائی ملی
ہم یہ کہتے ہیں ہمیں عزت و سچائی ملی
ہم کو قرآن ملا رب کی شناسائی ملی
میرے پیاروں کو سناں پر بھی پذیرائی ملی
ابن مرجانہ تیرے جبّـہ و دستار تلک
کربلا آگئی اب شام کے دربار تلک
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
اے میرے بھائی کے قاتل ہوس زر کے غلام
انتہا یہ بھی ہے میں اور کروں تجھ سے کلام
یوں مخاطب ہوں کہ دل میں ہے میرے غم کی حسام
مجھ کو دینا ہے حسینؑ ابن علیؑ کا پیغام
کرکے تضحیک نبی تجھ کو مزا آتا ہے
انـتـقـامِ اُحـد و بـدر پہ اتراتا ہے
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
اے یزيد ستمی جاگ بہت شاد ہے تو
قید کر کے ہمیں سمجھا ہے کہ آزاد ہے تو
یہ تیری خام خیالی ہے کہ آباد ہے تو
نسل درنسل سدا کے لیے برباد ہے تو
فیصلہ رب کا ہے مہلت ہے سنبھل جانے کی
ڈھیل دی جاتی ہے ظالم کو سنبھل جانے کی
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
آج کس زعـم میں اشراف کا خوں پیتا ہے
کاٹ کے باغ رسالت کو تو خوش ہوتا ہے
چیختا پھرتا ہے تو بدر کا یہ بدلہ ہے
مجھ کو حیرت نہیں ہندہ ہی کا تو بیٹا ہے
ہوگا معلوم شـقاوت کا نتیجہ اس دن
بدلہ یہ کیا ہے، لیا جاۓ گا بدلہ اس دن
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
کردیا قتل ہميں تو نے غلط سوچا ہے
گوشت اپنا ہی چبایا ہے بدن نوچا ہے
کیا خبر تجھ کو کہ ہم لوگوں کا رتبہ کیا ہے
آل عمران میں اللہ کا یہ وعدہ ہے
شہداء صورت قرآن سدا زندہ ہیں
وہ تو وہ ان کے محبّـان سدا زندہ ہیں
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
محو حیرت ہوں کہ جنہیں رب نے سرافراز کیا
عـلـم قرآن دیا اور یـدک الـخـیر کہا
آہ ان باغ رسالت کے گلوں کو مسلا
آستینوں سے تمہاری ہے لہو ان کا بہا
پاک و پاکیزہ بناۓ تھے جو خود رب نے بدن
آج صحرا میں پڑے ہيں وہ ہی بے گورو کفن
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
آزما لے ستمی زاد ستم کے حربے
دیکھ باقی تیرے دل میں کوئ حسرت نہ رہے
رہ گیا ہو جو ستم کوئ تو وہ بھی کرلے
جیت کر ہار گئ تیری حکومت ہم سے
فکر شبیر تو پھیلے گی محمد کی قسم
یہ تیرے بس میں نہیں مالک و مختار ہیں ہم
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
حافظہ نہج البلاغہ کا تھا وہ رعب و جلال
موت کی خاموشی جیسا ہوا دربار کا حال
جاگ اٹھی بیبیاں جو غم سے مسلسل تھیں نڈھال
بھرے دربار سے مظلوم خطیبہ کا سوال
کلمہ جس کا پڑھا اس کا جگر کاٹ لیا
اپنے محسن کے نواسے کا ہی سر کاٹ لیا
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
تم تھے نو لاکھ درندے وہ بہتــّر انساں
ان بہتــّر میں بھی اصغر سا تھا اک تشنہ دہاں
ایسے معصوم قسم کھاتا ہے جن کی قرآں
ہاۓ ان پیاسوں کے حلقوم پہ خنجر تھا رواں
تم یہ کہتے ہو پَئے جنگ حسین آیا تھا
بیٹیوں بہنوں کو پھر ساتھ ميں کیوں لایا تھا
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
اے یزید آج نہ کیوں تجھ پہ فلک ٹوٹ پڑے
تو نے وہ ظلم کیے جس پہ محمد روۓ
ہاۓ ناموس نبی کوچہ و بازار پھرے
درودیوار سجے کوٹھوں سے پتھر برسے
شامیوں ہم پہ نیا اب یہ غضب کرتے ہو
چھوٹی زہرا کو کنیزی میں طلب کرتے ہو
یدِک الخیر بھی ہم۔۔۔
اُنہی ہاتھوں میں رسن۔۔۔
ختم تقریر ہوئ محشر خاموش اٹھا
یاعلی آپ کی بیٹی کا عجب خطبہ تھا
مردہ دربار پہ چھائ تھی خطیبہ کی صدا
بچھ گئی سرور و ریحان وہاں فرش عزا
بھائ کے سر پہ نظر زینب کبری کی پڑی
جھک گئ بالی سکینہ پہ علی کی بیٹی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.