Sina ki nok pe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Muzammil Mirza
سناں کی نوک پہ بھی شاہ سر اٹھا کے چلے
جہاں کو طاقت حق کیا ہے یہ دکھا کے چلے
حسین دشت میں گھر اپنا گو لٹا کے چلے
نبی کے دین کی قسمت مگر بنا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
اسی کے قدموں سے جنت لپٹ کے رہتی ہے
مثال حر جو مقدر کو قد بنا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
جہاں نے دیکھ لیا تیر حرملہ کا اثر
گلے پہ لے کے جو بے شیر مسکراکے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
ہمیں کٹے ہوئے بازو کی یاد آنے لگی
ہم اپنے ہاتھ میں جب بھی الم اٹھا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
حسین کہتے تھے اکبر ہے اب اندھیرا جہاں
تم اپنے سینے پہ زخم سناں جو کھاکے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
غشی کے حال میں عابد کا جل گیا بستر
جب آگ خیمے بے داد گر لگا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
بندھے تھے گردن و بازو حرم کے رسی میں
ستم کی انتہا اہل ستم دکھا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
یزید نام زمانے میں ہوگیا لعنت
حسین اس طرح اطہر اسے مٹا کے چلے
سناں کی نوک پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.