Shauq arze karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Jahan
شوق ارض کربلا کا میرے آب و گِل میں ہے
جیتے جی جنت میں پہنچوں یہ تمنا دل میں ہے
داغِ ماتم سے ہے رونق محفلِ شبیر کی
جیسی یہ محفل ہے ویسی شمع بھی محفل میں ہے
بھر کے پانی نہر سے عباس پیاسے ہی گئے
یہ انہی ہونٹوں کی خشکی آج تک ساحل میں ہے
بھیج دی نیزوں میں اکبر سے پسر کو خود حسین
امتِ جد کی محبت ہے کہ برچھی دل میں ہے
نکلی پڑتی ہے کہ خیمے میں نہیں پڑتا قرار
گردنِ اصغر میں ناوک زخم ماں کے دل میں ہے
آگ ہے خیموں کے اندر اور باہر اہلِ نار
پردادارانِ حرم کی جان کس مشکل میں ہے
خشک پیاسے کا گلا اور کند خنجر ہے غضب
دل یہ کاہے کو ہے پتھر سینہِ قاتل میں ہے
جمع ہیں اہلِ جناں بابِ جناں پر وقتِ عصر
انتظار ایک شمعِ کشتہ کا بھری محفل میں ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.