Shamiyon may ghir
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Anj. Masoomeen
شامیوں میں گھِر گیا ہے مہمانِ کربلا
کلمئہ توحید کا عرفاں بیانِ کربلا
امتیازِ حق و باطل داستانِ کربلا
پیشوائے اہلِ ایماں کُشتگانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
تین دن سے بندھ ہے پانی نبی کی آل پر
کون ہے جو ترس کھائے بے کسوں کے حال پر
خوب مہمانی ادا کی میزبانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
یوسفِ کرب و بلا ہمشکلِ محبوبِ خدا
دینِ حق پر کر دیا اپنی جوانی گو فدا
کھا کے سینے پر سِناں وہ نوجوانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
کانپ اُٹھا عرشِ معلیٰ ہل گئے قلبِ عدو
سینہِ شبیر میں دل ہو گیا غم سے لہو
تیر کھا کر ہنس دیا جب بے زبانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
پھیر دی حلقِ شاہِ دیں پر ستمگار نے چھُری
پیٹتی سر آگئی میدان میں بنتِ علی
تم بھی پیٹو اپنے سر کو عاشقانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
کس طرح جھُک جائے گا وہ زورِ باطل سے بھلا
بازوئے عباس کا جس کو سہارا مل گیا
حشر تک اُونچا رہے گا اب نشانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
جل گئے خیمے چھِنی چادر بندھے رسی میں ہاتھ
اب نہیں کوئی حرم کے سر پہ جُز آبِ کزاق
شام کو جاتا ہے لُٹ کر کاروانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
عصر کا ہنگام اور وہ شاہِ دیں کی کارزار
تھا قیامت کا سماں جب چل رہی تھی ذوالفقار
خون میں تر تھے زمین و آسمانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
اللہ اللہ صبحِ عاشورہ وہ اکبر کی صدا
چھوڑ کر باطل کا دامن جانبِ حق حُر چلا
گونجی جب مومن فضائوں میں اذانِ کربلا
شامیوں میں گھر گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.