Shabe ashoor tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
شبِ عاشور خیمئہ کلثوم سے آتی تھی صدا
ہائے ہائے ہائے
میں بھی زینب کی طرح بھائی کا دیتی صدقہ
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم کے لب پر نوحہ
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
ساتھ پردیس میں بھائی کا برابر دیتی
شہہ کے بے شیر پہ قربان اُسے کر دیتی
دل میں حسرت ہی رہی عون ومحمد جیسا
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
داغ بیٹے کی جُدائی کا اُٹھا لیتی بہن
اپنے بھائی کی نشانی کو بچا لیتی بہن
شہہ کے اکبر کی جگہ سینے پہ کھاتا نیزہ
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
ہاتھ ہو جاتے قلم رن میں میرے بیٹے کے
چاہے خوں اپنا بہا دیتا وہ پانی کے لیے
لے کے غازی سے رضا اُس کو بناتی سقہ
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
ساتھ شبیر کے جس طرح ہے غازی کی وفا
وہ بھی آقا کو کبھی اپنے نہ زحمت دیتا
ساتھ سجاد کا ہر موڑ پہ دیتا وہ صدا
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
کہتی شبیر سے زحمت نہ اُٹھائو بھائی
گھر میں سادات کے صدقے کو نہ لائو بھائی
اُس کا خیموں میں کبھی آنے نہ دیتی لاشہ
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
جب سُنے بین یہ تکلم تو یہ غازی نے کہا
کل یہ عباس فدا تیری طرف سے ہو گا
تجھ کو بابا کی قسم اب نہیں دینا یہ صدا
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
شبِ عاشور تھا کلثوم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.