Shabbir pe ab tanhai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Sajid Jafri
کیا غربت ہے اب کوئی نہیں
شبیر پہ اب تنہائی ہے
فرزند نبی پر امت نے
افسوس قیامت ڈھائ ہے
مظلوم پکارے اب کس کو
اکبر بھی نہیں عباس نہیں
یہ دوش نبی کا راکب ہے
امت کو مگر احساس نہیں
پردیسی ایک مسافر کو
تقدیر کہاں پر لای ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
مقتل ہی نہیں سارا عالم
ھل من کی صدا سے گونج اٹھا
نہ فوج رہی سالار رہا
شبیر کا وہ لشکر نہ رہا
سہہ روز کے پیاسے گردن میں
یہ کیسی قیامت آی ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
لے آئے ہیں سرور مشک و الم
پیاسے پہ ہوا ہر ظلم و ستم
اس عالم غربت میں لیکن
شبیر کو تھا اس بات کا غم
دم توڑتے بیٹے نے رن میں
سینے پہ برچی کھای ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
اک حشر بپا ہے مقتل میں
جبریل کے لب پر ہے نوحہ
اولاد نبی کے خیموں سے
آتی ہے صداے واویلا
شبیر نے ہاے غربت میں
اکبر کی لاش اٹھای ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
یہ خون میں تر ننھا سا گلا
نانا کو دکھانا محشر میں
اب خاک پہ سونا ہے تجھ کو
یہ سونچ کے رن میں سرور نے
ہمشکل نبی کے پہلو میں
بے شیر کی قبر بنای ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
فرزند پیمبر پر رن میں
نو لاکھ کا لشکر ٹوٹ پڑا
افسوس ہے اب زیر خنجر
ہے سبط نبی کا خشک گلا
کہرام بپا ہے مقتل میں
ہر سمت اداسی چھائی ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
یہ کلمہ گوں نے سونچا نہیں
ہے بوسے رسالت کا یہ مکیں
روتا ہے فلک کانپی ہے زمیں
ہے خون میں تر پیاسے کی جبیں
احمد کے نواسے کا لٹنا
اسلام کی یہ رسوائی ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
اس غالب کو پہچان محب
جو کرب و بلا تک آیا ہے
یہ باغ فدک کا غاصب ہے
تاریخ نے یہ سمجھایا ہے
کل قاتل محسن ہے جس نے
خیموں کو آگ لگای ہے
کیا غربت ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.