Shabbir akele hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Rizwan Zaidi
شبیر ا کلیے ہیں کمر ٹو ٹ چُکی ہے
اور لا ش جو ا ں سال کی مقتل میں پڑ ی ہے
شبیر سے ا ب ذین پہ سمبھلا نہیں جا تا
یہ حا ل ہے اور آخر ی سجدے کی گھڑی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
کہتے ہیں مسلما ن کہ ما رو ا ِ سے ما رو
کوئی نہ رہا جِس کا وُہ شبیر یہی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
شا ہ جا تے ہیں اصغر کا لہو رخ پہ لگا کر
اور ما درِ ا صغر درے خیمہ پہ گھڑی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
نیزوں سے ذمیں ظا لِموں کیوں کُھود رہے ہو
کیا تُم کو ضرورت علی ا صغر کی پٹر ی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
دل وا لو ذرا سو چو کہ کیا گزرے گی شا ہ پر
نیزے کی ا نی سینہِ اکبر میں گٹر ی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
شا ہ کہتے ہیں اکبر نظر آتا نہیں رستہ
کیا سا تھ غر یبی میں نظر چُھوڑ گیی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
دل تھا م کے کیو ں بیٹھ گئی ما در اکبر
کیا نو ک سنا ں ما ں کے کلیجہ میں لگی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
یہ تا زیہ دا ری ہے محبت کی علا مت
آنسوں نہ نثا ر آہیں تو یہ سنگدلی ہے
شبیر ا کلیے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.