Sajjad zara aahista
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Irfan Haider
اعجاز امامت سے سجاد چلے آئے
اور گنج شہیداں میں بے گور و کفن لاشے
شبیر کے مقتل میں سجاد جونہی پہنچے
آواز یہ آتی تھی شبیر کے لاشے سے
آؤ اے بیٹا دو ہمیں پرسہ ان شہیدوں کا
دفن کرنے مجھے تو آیا ہے دھیان رکھنا مگر میرے لال
میں ہوں زخمی بدن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
اے خدا وند غم تجھ پہ بھی مصایب کا سایہ ہے
تیرا احسان ہے بے کفن کو کفن دینے آیا ہے
میرے تشنہ دہن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
تو اکیلا ہے اور دفن کرنے کولاشے بہتر ہیں
خاک پر سب کے تن ہیں مگر سر سبھی کے سناں پر ہے
ہیں سبھی خستہ تن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
دفن کرنا پسر ہم شبیہہ پیمبر کا تم لاشہ
دھیان رکھنا مگر زخمی سینہ ہے اسکا اس جان مادر کا
ہو نہ کوئی دکھن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
سب کے لاشے تجھے مل ہی جائیں گے مقتل میں اے قیدی
ڈھونڈنا دشت میں ایک گٹھڑی میں ہے لاش قاسم کی
ہاے وہ ابن حسن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
لاشے عباس کو بعد میں اسکے مرقد میں لے جانا
دونوں بازو جدا ہیں انہیں ڈھونڈ کر پہلے لے آنا
وہ ہے سقاے من پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
لینے جاؤ جو تم نہر سے لاشے عون و محمد کے
ماں تو روی نہیں انکے لاشوں پہ تم رونا شہزادے
دونوں ہیں گلبدن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
ساری فوج خدا بے کفن سو رہی ہے اسی بن میں
شوزب و جون حر ہیں حبیب اور غازی کے بیٹے ہیں
سب ہیں تشنہ دہن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
شام غربت بھی ہے یاد بازار و زندان ہے تجھکو
مظہر و رنج و غم میرے غم کا تو عرفان ہے تجھکو
میں ہوں زخمی بدن پہنانا کفن سجاد زرا آہستہ
میں ہوں زخمی بدن۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.