Safar may aakhri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Afzal Mirza
سفر میں آخری دولت لٹا کے روتے ہیں
حسین تربت اصغر بنا کے روتے ہیں
یہ کس چراغ کو اے شامیوں بجھا ڈالا
کہ جس کی یاد میں جھونکے ہوا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
مدینے والوں کو کھلتا تھا گریہء زہرا
حسین اس لےء جنگل بسا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
ہمارے گھر میں بھی ہوتی ہے مجلس شبیر
ہمارے گھر میں بھی سجاد آ کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
نہ جانے اشکوں سے کیا لکھ دیا ہے صغرا نے
پسر کی لاش پہ شاہ خط سنا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
رباب کو در خیمہ پہ دیکھ کر مولا
زباں سے کچھ نہ کہا سر جھکا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
ہوا ہے دشت میں پامال ہاے ابن حسن
حسین لاش کے ٹکڑے اٹھا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
بلال شام غریباں کی یاد آتی ہے
چلو چراغ شب غم بجھا کے روتے ہیں
سفر میں آخری دولت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.