Roohi wa jismi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
یا ابا عبداللہ
روحی و جسمی لک الفداء
ہر لاشہ دیتا جاتا ہے مقتل سے یہ صدا
روحی و جسمی لک الفِدا
یا ابا عبداللہ
ہم نے ہے کیا آپ کی مادر سے یہ وعدہ
مجلس نہ رُکے گی کبھی ماتم نہ ُرکے گا
کٹ جائے چاہے ہاتھ یہ کٹ جائے یہ گلا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
ڈرتے ہیں کہاں موت سے ہم اہلِ شہادت
ہے جان سے بڑھ کر تیرے روضے کی زیارت
کہتے ہوئے یہ قافلے جاتے ہیں کربلا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
ظالم نہ بنا دے کہیں اک اور بقیع
پھر مولا وہ ہی شام ہے اور آپ کا کنبہ
اذنِ جہاد کیجیئے مہدی کو اب عطا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
ھل مِن کی جو شبیر نے مقتل میں صدا دی
اصحاب تڑپنے لگے تنہائی پہ شہ کی
اُٹھ اُٹھ کے دیتا جاتا تھا ہر لاشہ یہ صدا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
سجاد نے بابا کی جو تُربت کو بنایا
شبیر کے سینے پہ جو اصغر کو سُلایا
لاشے سے کہہ کے دوسرا لاشہ لپٹ گیا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
دربار نہ جاؤں گی میں کہتی تھی یہ خواہر
روتے ہوئے شبیر کو دیکھا جو سِناں پر
لبیک کہہ کے چل پڑی دربار سیدہ
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
جس وقت کے زندان میں پیاسوں کے سر آئے
زینب نے وہاں عون و محمد کے بجائے
بھائی کے سر کو گود میں لیتے ہوئے کہا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
آنکھوں میں تکلم ہے وہ عاشور کا منظر
غیبت کو عزاخانہِ شبیر بنا کر
پیہم امامِ عصر کے ہونٹوں پہ ہے صدا
روحی و جسمی لک الفِدا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.