Ro rahi hai aaj
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasan Sadiq
رو رہی ہے آج تک شبیر خاک کربلا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
جب چھپایا میں نے دامن میں تیرے بے شیر کو
ظالموں نے نیزوں سے سینہ میرا چھلنی کیا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
تھر تھرای خوب پیٹی اور روی خوب تھی
حسن کی بیوہ کے ارمانوں کا سہرا جب لٹا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
روبرو میرے ہوے تھے انبیاء پر ظلم بھی
لاشہء اکبر تڑپتا مجھ سے نہ دیکھا گیا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
بچوں کو یہ آس تھی کہ چچا پانی لاینگے
پانی کا نہ پہنچنا غازی کے دل کو کھا گیا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
گو میں پردہ بن گیء تھی وارث تطہیر کا
خاک سر زینب میں یا رب وقت کیسا آ گیا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
لاشہء عون و محمد پر کوی وارث نہ تھا
صبر زینب دیکھ کر منہ کو کلیجہ آ گیا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
منکر سجدۂ آدم ہو کے شیطان ہو گیا
سجدۂ شبیر نجفی عظمت یزداں ہوا
گو معلیٰ میں ہوی افسوس تو ذبح ہوا
رو رہی ہے آج تک۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.