Reh gayi dasht may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Muslim Jafri
رہ گئی دشت میں تنہا تو وطن یاد آیا
پانی پیا تو ہر اک تشنہ دہن یاد آیا
لے کے ہر چیز مدینے سے چلی تھی زینب
لاش پر بھائی کے پہنچی تو کفن یاد آیا
شبیر تیری غربت کی قسم
میں لاش تیری دفنا دیتی
گر سر پہ میرے چادر ہوتی
میں تجھ کو کفن پہنا دیتی
شبیر یہ دیس پرایا ہے
ورنہ میں تمہاری میت پر
انمبار لگاتی کلیوں کے
پھولوں کی مینہ برسا دیتی
شبیر تمہیں معلوم تو ہے
میرے ہاتھ بندھے ہیں گردن سے
گر ہاتھ میرے جو کھُلے ہوتے
میں لاش وطن پہنچا دیتی
شبیر یہ تم نے اچھا کیا
کعبے سے نکل آئے ورنہ
یہ اُمت خیموں کے بدلے میں
کعبے کو آگ لگا دیتی
گر پیاس کی شدت سے بھای
آنسوں نہ میرے سوکھے ہوتے
آنکھوں سے میں تیری میت پر
کوثر کے جام بہا دیتی
خیموں کو جلا کر اعدا نے
اسباب میرا سب لوٹ لیا
تو خود ہی بتا دے بھای میں
دیتی بھی تجھے تو کیا دیتی
سجاد کو جلتے خیمے سے
گر شام نہ لے جانا ہوتا
تیری لاش پہ گر کر مر جاتی
خود کو میں تیرا صدقہ دیتی
کوثر یہ کسے حق حاصل ہے
تحریر نبی کی چاک کرے
اُمت کو اگر منظور نہ تھا
زہرا کو سند لوٹا دیتی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.