Rassi may thi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
ہو کر اسیر ظلم جونہی دختر علی
کوفے کی سمت گیارہ محرم کو جب چلی
دیکھا کہ خاک و خوں میں ہیں غلطان پڑا ہوا
پامال لاش دل زہرا و مرتظی
رسی میں تھی کلاییاں اور تھے لبوں پہ بین
مڑ مڑ کے دیکھتی تھی بہن لاشہء حسین
دیکھا سکینہ بیٹھی ہے بابا کی لاش پر
اسکو گلے لگا لیا زینب نے آن کر
اے بیٹی تجھکو رونا ہے تا شام کر کے بین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
بھای سے یوں جدا ہوی وہ غم کی مبتلا
جس طرح روح جسم سے ہو جاتی ہے جدا
بے روح کر رہی تھی سفر خواہر حسین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
بھیا تمہاری لاش ہے صحرا میں بیکفن
افسوس تم کو دفن نہ کر پای یہ بہن
تم اٹھ گےء تو اٹھ گیا میرے دل کا چین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
چھوڑا تھا جب مدینہ جو حالت تھی شاہ کی
لاش حسین پر وہی حالت بہن کی تھی
مٹی پہ جسم تھا سر نیزہ سر حسین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
قاسم کی لاش ہے کہیں اکبر کی لاش ہے
فرزند فاطمہ کا جسد پاش پاش ہے
دریا کنارے سوتا ہے ام البنین کا چین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
آی ہے روح زہرا سر لاشہء امام
زینب پکاری اماں میں جاتی ہوں سوے شام
تیرے سپرد کرتی ہوں اماں تیرا حسین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
مختار کربلا سے لپٹ کر جو ہم چلے
ماجد بہا کے اشک یہی سوچتے رہے
چھوڑا بہن نے کیسے بھلا لاشہء حسین
رسی میں تھی کلاییاں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.