Rahon may sarban ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Asghar Party
راہوں میں سارباں کو چھاؤں نہ ملا سایہ
بے تاب دھوپ میں ہے زنجیر کا ستایا
اجڑے گھروں میں گونجی آواز ہاے اکبر
صغرا کو جب پھوپی نے رو کر گلے لگایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
جانا کچیریوں میں چھوٹا نہ بی بیوں کا
ایسا کسی عدو نے دربار میں بلایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
پردیسیوں کی قبروں میں تربت سکینہ
کس نے ہیں پھول ڈالے کس نے دیا جلایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
زینب کے سر میں اب تک ہے ریت کربلا کی
رسی نے بازوؤں میں کالا نشاں بنایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
پہچان لینا صغرا اب اپنے کارواں کو
اس قافلے میں بی بی کوئی نہیں پرایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
زہرا کو یاد آیا پہلو کا کوئی صدمہ
درے کا نیل ماں کو زینب نے جب دکھایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
شوہر بچے نہ بھائی سسرال اور نہ میکہ
بیمار تیرا بھائی بیووءں کو ساتھ لایا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
کہتے تھے منزلوں پہ ماؤں سے روکے بچے
امی وطن مدینہ کیوں اب تلک نہ آیا
راہوں میں سارباں کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.