Raat sughra ne ajab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Rizwan Zaidi
رات صغرا نے عجب خواب پریشاں دیکھا
دشت میں خون میں ڈوبا ہوا قرآں دیکھا
دل یاسین پہ چلاتے تھے جو تیر و خنجر
کوئی قاری تھا کوی حافظ قرآں دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
ڈھونڈنے آتے ہو دریاؤں کے پانی جسکو
ایسا پیاسا نہ کوئی دنیا میں مہمان دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
کبھی چوما کبھی دیکھا کبھی لپٹی روکر
ماں نے گہوارہء اصغر کو جو ویراں دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
اک طرف عون و محمد کے پڑے ہیں لاشے
اور شبیر کو تنہا سر میداں دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
آگ امت نے اسی گھر کو لگای آفسوس
جس کے دروازے پہ جبریل کو دربان دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
خوں برسنے لگا سجاد کی آنکھوں سے نثار
سر زینب کو جو بازار میں عریاں دیکھا
رات صغرا نے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.