Nazb darya par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Alamdar Razvi
نصب دریا پر شہ بیکس کا خیمہ ہو چکا
منزلیں آفت پہ پردیسی کا ڈیرا ہو چکا
آج اپنی وعدہ گاہ صادق الوعد آ گےء
اب جو ہونا ہے وہ ہوگا تھا جو ہونا ہو چکا
نصب دریا پر۔۔۔
نہر کی ٹھنڈی ہوا آتی ہے جب بیمار کو
کہتے ہیں سجاد اے بابا میں اچھا ہو چکا
نصب دریا پر۔۔۔
آخری گھر کے لئے لیتے ہیں حضرت کچھ ربیب
کربلا میں حشر تک معلوم رہنا ہو چکا
نصب دریا پر۔۔۔
نیزہ و شمشیر و خنجر جمع لاکھوں ہو چکے
دعوتِ مہمان کا سب ساماں مہیا ہو چکا
نصب دریا پر۔۔۔
بازوے عباس کے لیتے ہیں بوسے بار بار
شاہ پر کیا جانیےء کیا راز افشاں ہو چکا
نصب دریا پر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.