Nange sar jab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Tableegh e Imamia
ننگے سر جب کبھی ناموسِ گرفتار چلے
پردہ داری کے لیئے سایہِ دیوار چلے
اُس نے اک سجدئہ آخر سے سبق سیکھا ہے
عالمِ شوق میں جب کوئی سوئے دار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
ایک اشارہ ہے یہ ہمشیرِ برادر کی طرف
نفس کے ساتھ اگر سانس کی رفتار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
مجھکو ہر لمحہ مسیحا کا گماں ہوتا ہے
ریگ زاروں میں اگر کوئی بھی بیمار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
اُس کے ہمراہ ذرا آپ بھی آہستہ چلیں
پا با زنجیر اگر کوئی گرفتار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
بیبیاں ہوں تو ردائیں بھی مہیا کیجیئے
قافلہ جب بھی کوئی شہر کہ بازار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
ظلم کی حد ہے کہ جب عالمِ تنہائی میں
خستہ جاں پر سرِ مقتل کبھی تلوار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
ایک عالم میں رہے سانس میں روتا شکیب
سبز پرچم کے تلے جب بھی علمدار چلے
ننگے سر جب کبھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.