Misaale mauj par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Faazil Lakhnavi
مثال موج اجل پر ابھر ابھر کے چلے
حسین والے چلے اور بن سور کے چلے
زہیر آے حبیب آے نصرت شاہ کو
قمر کے گرد ستارے نکھر نکھر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
علی کا شیر سوے نہر یوں چلا جیسے
شکار دیکھ کے ضیغم ٹہر ٹہر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
نگاہ کہتی ہے عباس کی سر ساحل
کہاں ہے فوج عدو ہم تو مشک بھر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
کمر حبیب نے باندھی جو نصرت شہ میں
جوانیوں کے ارادے سنور سنور کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
نہا کے نکلا ہے لیلیٰ کے آنسوؤں میں شباب
نہ کیوں جوانیء اکبر نکھر نکھر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
صفوں کو توڑ کے جاتے ہیں اس طرح عباس
سفینہ موجوں پہ جیسے ابھر ابھر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
طوافِ روضہء شبیر کی تمنا میں
فرشتے بام فلک سے اتر اتر کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
قلم اٹھاتے ہیں مدح حسین میں ماہر
تصورات میں مضموں سنور سنور کے چلے
مثال موج اجل پر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.