Mere bhaiya hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Rehan Abbas
گر گیء لاش پہ بہن آ کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
میری دنیا اجڑ گئی بھیا
کہیں زینب نے کہا غش کھا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
کہہ رہی تھی یہ تڑپ کے زینب
کس طرح آپ کا چھپاؤں تن
کاش چادر میرے سر پہ ہوتی
آپ کو بھای میں دے دیتی کفن
سو رہے ہو بہن کو تڑپا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
سو رہے ہو نہ کیوں جلتی ریتی پر
آنکھ کھولو مجھے دیکھو اٹھ کر
ہے رسن ہاتھ میں کھلا ہے سر
میرے سر پہ نہیں باقی چادر
کون چادر اڑھاے اب آ کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
خون میں ہو گیء وہ تر دیکھو
جاں بستی تھی آپ کی جس میں
وہ سواری نہیں بھیا
اب سکینہ سفر کرے کس میں
وہ ترای پہ سو گیا جا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
ایسی حالت میں چھوڑ کے تم کو
کیسے دل کو سکون آے گا
بیکفن خاک پہ تیرا لاشہ
چھوڑ کے شمر چلا جاے گا
میں چلی شام کو یہ غم کھا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
میں نے مقتل میں یہ منظر دیکھا
ریزہ ریزہ ہوا لاشہ تیرا
کیسے تم کو میں سمیٹوں بھیا
اتنی بے بس ہے تمہاری بہنا
ہنس رہے ہیں لعیں ستم ڈھا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
تپتے صحرا کی جلتی ریتی پر
چھوڑ کر لاش کو چلی خواہر
لاش کو دیکھتی تھی مڑ مڑ کر
اور کہتی تھی یہ زینب رو کر
اب گلے ہم کو لگا لو آ کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
لاشے بے سر سے یہ صدا آئی
رکھنا اپنا خیال مانجای
سن کے حیدر ریحان یہ بی بی
اپنے بھائی سے رو کے فرمای
شام جاتی ہوں ٹھوکریں کھا کے
میرے بھیا حسین اٹھ جاؤ
گر گیء لاش پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.