Mere andar basi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Kazmi Brothers
میں جہاں جاؤں جون میرے اندر بسی ہے کربلا
بن کے دھڑکن میرے دل میں گونجتی ہے کربلا
میرے سینے میں اذل سے بس رہا ہے یا حسین
یہ جو دھڑکن کی مسلسل اک صدا ہے یا حسین
ہر گھڑی آوازیں مجھکو دے رہی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
گونجتے ہیں یا حسینا سے مسلسل بام و دَر
چودہ صدیوں سے ہے جاری شہ کے ماتم کا سفر
اس طرح سینہ بہ سینہ چل رہی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
ماں نے دکھلایا ہے رستہ فرش مجلس کا ہمیں
حلقہء ماتم میں لیکر آے ہیں بابا ہمیں
گود سے ماں باپ کی ہم کو ملی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
شام و کوفہ کے سفرمیں بیڑیاں تھامے رہی
طوق کا بوسہ کبھی زنجیر کا بوسہ کبھی
عابد بیمار سے لپٹی ہوئی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
تازیانے کھاے گی ہمت مگر دکھلائے گی
شام تک مظلوم کا پیغام لے کر جاے گی
شہ کی میت سے قسم کھا کر اٹھی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
صبر والے تازہ دم ہے ظلم والے تھک گےء
خنجروں نے ہار مانی نیزے والے تھک گےء
پیچھے ہٹنے کی جگہ آگے بڑھی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
ہے کہیں اکبر جواں کا سر کہیں بے شیر کا
سر بریدہ ہے کہیں عباس کا شبیر کا
نوک نیزہ پہ سفر کرتی رہی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
بے کفن اس سید و صفدر پر لاکھوں سلام
ایک دن ہوگا تکلم اس کے خوں کا انتقام
منتظر ابنِ علی کی آج بھی ہے کربلا
میں جہاں جاؤں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.