Maidane karbala mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Aqueel Abbas
تاریخ کربلا کا سب کو سبق ہے یاد
ہے خونِ شہ کے صدقے توحید زندہ باد
چودہ سو سال گزرے لیکن لب رواں سے
آتی ہے یہ صدایں مسجد کی ہر اذاں سے
میدان کربلا میں خاموش میتوں نے
اسلام کی بقاء کا اعلان کر دیا
حسنین کے لہو کے چھیٹوں کی رحمتوں نے
دنیا کے ہر بشر پر احسان کر دیا ہے
شاہ مردان شیر یزداں قوت پروردگار
لافتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار
یہ ہے علی کا رتبہ عباس انکا بیٹا
تیروں کی بارشوں میں مشکیزہ بھر رہا ہے
میدان کربلا میں۔۔۔
آل عبا پانی کی اک اک بوندھ کو ہاے ترستے ہیں
اہلِ حرم ریگستانوں میں مارے مارے پھرتے ہیں
صحرائے کربلا میں ان ظالموں کے ہاتھوں
سرکار دوجہاں کا پیارا سا گھر لٹا ہے
میدان کربلا میں۔۔۔
کیا ہے رتبہ آل نبی کا آؤ محمد سے پوچھو
باغ جناں کے شہزادوں عون و محمد سے پوچھو
سجدے سے سر اٹھتا کیسے نبی خدا کا
کاندھے پہ اپنے جس نے نور نظر لیا ہے
میدان کربلا میں۔۔۔
جو بھی گیا مقتل کی طرف لاشہ اس کا واپس آیا
اعدا نے ہر ایک مجاہد کو دھوکہ دے کر مارا
انصار شاہ شہیداں نے توحید کو بچانے
عشق علی میں خود کو قربان کر دیا ہے
میدان کربلا میں۔۔۔
بعد شہ دیں زینب مضطر دیں کا الم لے کر نکلی
شام اور کوفے کے درباروں کو وہ الٹ کر ہی پلٹی
باطل سمجھ رہا تھا قتل حسین کر کے
توحید کا تصور دنیا سے مٹ گیا ہے
میدان کربلا میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.