Mai khaake karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
میں خاک کربلا ہوں رتبہ میرا جدا ہے
بنت علی نے مجھکو چادر بنا لیا ہے
کرتے ہیں رشک مجھ پر کوثر کے بھی کنارے
زینب کے سر میں، میں نے دو سال ہیں گزارے
میرا ہر ایک ذرّہ ہر ظلم کا گواہ ہے
میں خاک کربلا ہوں...
اکبر جوان قاسم غازی سے چند تارے
زین العبا نے میری آگوش میں اتارے
یعنی لہو نبی کا مجھ میں ملا ہوا ہے
میں خاک کربلا ہوں...
روتی ہوں یاد کر کے وہ بیکسی کا منظر
مولا چھپا رہے تھے مجھ میں جو لاشہ اصغر
ہاں اس دن سے آج تک نہ مجھکو سکوں ملا ہے
میں خاک کربلا ہوں...
شہدائے کربلا کے زخموں کو میں نے چوما
زہرہ کی بیٹیوں کے قدموں کو میں نے چوما
اس واسطے ہی میری تاثیر میں شفا ہے
میں خاک کربلا ہوں...
اکبر کی لاش پر جب شببر جارہے تھے
اٹھتے تھے بیٹھتے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے
منظر وہ اب بھی میری آنکھوں میں پھر رہا ہے
میں خاک کربلا ہوں...
اے زائرین مولا چلنا یہاں سنبھل کر
قرآن فاطمہ کا بکھرا ہوا ہے مجھ پر
نہ جانے کس جگہ پر کس کا لہو گرا ہے
میں خاک کربلا ہوں...
توقیر تو بھی کرلے آل عبا کا ماتم
جا شام میں گئی تھی اس بے ردا کا ماتم
ممنون ماتمی کی مخدومہ فاطمہ ہے
میں خاک کربلا ہوں...
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.