Laash abbas ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
لاش عباس کی سرور سے اٹھای نہ گیء
لاش ٹکڑوں میں تھی اک جا پہ سمای نہ گیء
بھای کی لاش پہ کہتے تھے یہ مظلوم حسین
مجھ سے بابا کی یہ تصویر بچای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
شہ نے اکبر کو بلا تو لیا مقتل میں مگر
کیفیت بھای کی بیٹے کو بتای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
مشک سے پانی بہا کٹ گئے عباس کے ہاتھ
تشنگی بالی سکینہ کی بجھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
یہ تو غربت ہے تیرے لال کی اے ام رباب
ورنہ نیزے پہ کوئی لاش اٹھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
دیکھ کر لاشہء قاسم کو یہ فروہ نے کہا
ایسی بارات کسی دولہا کی آی نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
کر دیےء بھای پہ قربان پسر زینب نے
پھر کبھی رسم یہ دنیا میں نبھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
چودہ صدیوں سے بہاتے ہیں سمندر آنسوں
آگ سادات کے خیموں کی بجھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
بعد شبیر ہوا سینہ بہ سینہ ماتم
گھر میں سادات کے پھر عید منائی نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
رن سے ہر ایک کے لاشے کو اٹھا لاے حسین
لاش شبیر کی مقتل سے اٹھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
جیسے ماں روتی ہے کچھ ایسے سکینہ روی
لاش مظلوم کی بیٹی سے چھڑای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
جس طرح ابنِ مظاہر نے نبھای یاسر
دوستی ایسی کسی سے بھی نبھای نہ گیء
لاش عباس کی سرور سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.