Kya likha fatema
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ نے بتایا نہ گیا
شہ سے خط لاشہء اکبر پہ سنایا نہ گیا
شہ نے چاہا تو بہت زخم مگر اتنے تھے
لاشہ عباس کا دریا سے اٹھایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
جب تلک آ نہ گئے سارے شرابی تب تک
ثانیء زہرا کو دربار میں لایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
دیکھا سیراب ذبیحے کو تو بولے سجاد
میرے بابا کو تو پانی بھی پلایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
ایک شبیر کی بیٹی کے سوا دنیا میں
کسی معصومہ کو ناقے سے گرایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
بھیڑ اس درجہ تھی ہنستے ہوئے لوگوں کی وہاں
سر بھی بازار میں عابد سے اٹھایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
باپ کا سر جو ملا روئی لپٹ کر ایسے
ماں سے بھی بالی سکینہ کو جگایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
میر سجاد شہ دیں سے علی اصغر کا
چہرہ جلتی ہوئی ریتی سے چھپایا نہ گیا
کیا لکھا فاطمہ صغریٰ...
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.