Zehra ki betiyan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
خیمے جلا دیےء گےء جایینگی اب کہاں
زہرا کی بیٹیاں
بیٹھی ہوی ہے خاک پہ مقتل میں بے اماں
زہرا کی بیٹیاں
جاے کدھر نہ پاس میں بستی نہ کوئی گھر
سر سے رداییں لے گےء کفار چھین کر
غازی کو یاد کرتے ہے لے لے کے ہچکیاں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
سادات کے قیام سے اٹھتا ہوا دھواں
وہ آگ میں گھرے ہوے بچوں کی سسکیاں
بھولیں گی کیسے شام غریباں کا یہ سماں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
کوئی نہیں جو اجر رسالت ادا کرے
پانی نہ دے رداییں تو دے دے کوئی اسے
لے کر چلا ہے دشت سے بیمار ناتواں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
مشکل ہے جینا سید سجاد کے لئے
کون آے گا غریب کی امداد کے لئے
بے پردہ ہے کھڑی ہوی لوگوں کے درمیاں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
عاشور کی وہ صبح نگاہوں میں پھر گیء
روتے ہوے اذان سنی جب جہاں سنی
اکبر کے بعد کھاتی رہی غم کی برچھیاں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
خوں رو رہا نیزے پہ ابنِ علی کا سر
لوگوں کا اک ہجوم ہے کانٹوں پہ ہے سفر
درے بھی کھاے راہ میں اک پل رکی جہاں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
سیدانیوں کے سر ہے تکلم جھکے ہوے
ہاے کھڑی ہے مادر عباس سامنے
کیسے چھپاے بازو پہ رسی کے یہ نشاں
زہرا کی بیٹیاں
خیمے جلا دیےء گےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.