Kis tarha apni
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کس طرح اپنی تباہی کی خبر لے جائے
پاس زینب کے بچا کیا ہے جو گھر لے جائے
لے گئی باپ کا سایہ تو سروں سے اُن کے
اب یتیموں کو ہوا چاہے جدھر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
ایک دو گھر کے چراغوں کو بجھادے لیکن
چھین کر کوئی نہ اُمیدِ سحر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
پاؤں زخمی ہیں تو راہوں میں ہیں پتھر کانٹے
جانے عابد کو کہاں تک یہ سفر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
بولی ہوں گی علی اکبر کو سجا کر زینب
چاند کو میرے کسی کی نہ نظر لگ جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
سوچتی ہوں گی یہ بانو میرا بچ جائے سہاگ
حُرملہ مجھ سے میرا لختِ جگر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
رکھ کے آنکھوں کے سلگتے ہوئے اس مقتل میں
لاش بچوں کی کہ شبیر کا سر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
کس طرح اپنی ۔۔۔
شاعری کی میری معیار یہی ہوگی نظیر
ذکرِسرورمیں مجھے موت اگر لے جائے
پاس زینب کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.