Khwaabe ibrahim
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasan Sadiq
خوابِ ابراہیم کی تعبیر دی شبیر نے
ابتدا بھای نے کے اور انتہا ہمشیر نے
آنکھوں سے پٹی ہٹا کر دیکھ لیجیےء یا خلیل
سینۂ اکبر سے برچھی کھینچ لی شبیر نے
ابتدا بھای نے کی اور انتہا ہمشیر نے
خوابِ ابراہیم کی۔۔۔
کس طرح بھولے گی مادر ہاے وہ اٹھارہ سال
حسرتیں پوری نہ کرنے دی جسے تقدیر نے
ابتدا بھای نے کی اور انتہا ہمشیر نے
خوابِ ابراہیم کی۔۔۔
ہاے وہ شام غریباں بعد قتل شاہ دیں
رات بھر پہرے دیےء تھے زینب دلگیر نے
ابتدا بھای نے کی اور انتہا ہمشیر نے
خوابِ ابراہیم کی۔۔۔
دین کو عرفان زندہ اس طرح شہ نے کیا
گھر لٹایا سر کٹایا ابنِ خیبر گیر نے
ابتدا بھای نے کی اور انتہا ہمشیر نے
خوابِ ابراہیم کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.