Kaunsa ranj tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mirza Sikander Ali
کونسا رنج تھا جو شہ سے اٹھایا نہ گیا
پر کوئی شکوہ زبان پر کبھی لایا نہ گیا
چاہا اکبر نے کہ دیکھے نہ پدر زخم جگر
خون اس جوش سے ابلا کہ چھپایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
ہوگےء مٹ کے فنا قد ہی مٹانے والے
ہاں مگر ماتم شبیر مٹایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
خالی جھولا کبھی بھولے سے جھلا دیتی تھی ماں
جھولنا جھولے میں اصغر کا بھلایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
بولی ماں لاشہء اکبر کی بلایں لے کر
تمکو نوشاہ میرے لال بنایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
ٹکڑے ٹکڑے تھا بدن فرق تھا پارہ پارہ
شاہ سے لاشہء عباس اٹھایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
پوچھا جب بانو نے کیا ہوگیا میرا عباس
شہ کا سر جھک گیا کچھ منہ سے سنایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
جس طرح سیدے سجاد کو پہنچی ایذا
کوی بیمار بھی اس طرح ستایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
رہ گیا اب بھی اسی بات کا غم دل میں نثار
روضہ شبیر کا آنکھوں سے لگایا نہ گیا
---کونسا رنج تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.