Karbala waale yaad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
پانی پیاسوں کو جب پلاؤ گے
کربلا والے یاد آینگے
کوی مر جاتا ہے کس کا اگر
کاندھا دیتے ہیں لوگ آکے مگر
شہ نے تنہا اٹھای لاشے پسر
جب جواں کوئی لاش اٹھاؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
کربلا میں بنا تھا جو دولہا
کیا مقدر تھا اس کی دلہن کا
شب کو دلہن تھی صبح کو بیوہ
بیٹیوں کا جو گھر بساؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
علی اصغر کی ماں پہ نظریں تھی
رن میں یوں تیر کھا کے رویا نہیں
ماں پریشان ہو نہ جاے کہیں
زخم کھا کر جو مسکراؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
باپ بچھڑا تھا جب سکینہ سے
ہر قدم پر اسے طمانچے لگے
کوی دیتا نہ تھا تسلی اسے
جب یتیموں پہ ترس کھاؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
ایک بیٹی جہاں میں ہے صغرا
قبر تک جس کا انتظار گیا
جس کا بابا نہ لوٹ کر آیا
گھر میں پردیس سے جب آؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
ہاے مسلم کے وہ پسر دونوں
عید کے دن تھے در پہ در بہ در دونوں
یاد کرتے تھے اپنا گھر دونوں
عید اپنوں میں جب مناؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
جب جنازہ بتول کا اٹھا
صبر اس دم علی کا کیسا تھا
گریہ زینب کے سامنے نہ کیا
آنسوں بچوں سے جب چھپاؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
ایسا دیکھا نہیں غریب کوئی
بس یہ غربت ہے صرف مہدی کی
قبر زہرا ہے اب بھی ٹوٹی ہوی
قبر پہ ماں کی جب بھی جاؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
ہے تکلم پیام صبر یہی
کربلا دل میں گر تمہارے رہی
تم پہ مشکل پڑے گی جب بھی کوئی
اپنے غم سارے بھول جاؤ گے
کربلا والے یاد۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.