Karbala se jo kabhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
کربلا سے جو کبھی ہو کے ہوا آتی ہے
کسی معصوم کی ہچکی کی صدا آتی ہے
ماں سمجھتی ہے دلہن لاؤں گی آیا ہے شباب
شہ سمجھتے ہیں کہ اکبر کی قضا آتی ہے
کربلا سے جو کبھی۔۔۔
ہاں دھڑکتا نہ ہو مرقد میں کہیں قلب رباب
علی اصغر علی اصغر کی صدا آتی ہے
کربلا سے جو کبھی۔۔۔
کون سوتا ہے کنارے تیرے اے نہر فرات
تیری مٹی سے ابھی بوئے وفا آتی ہے
کربلا سے جو کبھی۔۔۔
کوئی بیمار نہ پڑھتا ہو تہجد کی نماز
رات کو بیڑیوں کی کیوں یہ صدا آتی ہے
کربلا سے جو کبھی۔۔۔
جب کبھی زیادہ میں بیمار جو ہوتا ہوں سعید
خود بخود میرے لئےخاک شفا آتی ہے
کربلا سے جو کبھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.